کوہ نوردی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مارا مارا پھرنا، پہاڑوں میں گھومنا۔ "گردش روزگار مجھے دینا میں کہاں کہاں لے گئی کوہ نوردی اور دشت پیمائی کے شوق نے کیسے کیسے خطروں کے منہ میں ڈالا۔"      ( ١٩٨٤ء، گردِراہ، ٢٠٠ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم نکرہ 'کوہ' کے بعد 'نَوَردن' مصدر سے مشتق صیغۂ امر 'نورد' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩٨٤ء کو "گردِراہ" میں تحریراً ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مارا مارا پھرنا، پہاڑوں میں گھومنا۔ "گردش روزگار مجھے دینا میں کہاں کہاں لے گئی کوہ نوردی اور دشت پیمائی کے شوق نے کیسے کیسے خطروں کے منہ میں ڈالا۔"      ( ١٩٨٤ء، گردِراہ، ٢٠٠ )

جنس: مؤنث